بنگلورو،یکم فروری جنوری(ایس او نیوز)شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کے سلسلہ میں گرفتار وہ نوجوان جن کو زیریں عدالت کی طرف سے ضمانت دینے کافیصلہ سنایا گیا ہے ان نوجوانوں کی رہائی کے لئے شورٹی کا انتظام نہ ہونے کے سبب اب تک ان میں سے ایک کی بھی رہائی نہ ہو سکی ہے۔ بنگلورو اور ریاست کے ملی اداروں، سماجی و سیاسی قائدین کو اس ضمن میں فوری طور پر غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کے ان دوکثیر اقلیتی آبادی والے علاقوں میں 11اگست 2020کی شب ہوئے تشدد کے سلسلہ میں پولیس نے 500سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ ان میں سے بڑی تعداد میں نوجوانوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وہ نوجوان جن پر یو اے پی اے کے تحت مقدمے درج نہیں ہیں ان کی رہائی کے لئے ضمانت حاصل کرنے کے لئے شہر کے وکلاء کی طرف سے کوششیں جاری ہیں۔ ان میں سے معروف وکیل انیس علی خان کو غیر معمولی کامیابی ملی اوران کے ذریعے اب تک 99نوجوانوں کے لئے ضمانت منظور ہو چکی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے شورٹی کا انتظام نہ ہونے کے سبب ان کو رہا کروانے میں کافی مشکل پیش آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کو رہا کروانے میں جو دشواریاں کھڑی کی گئی ہیں ان کو دور کرنے کے لئے اتفاق رائے سے غو رکرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عبید اللہ شریف نے کہا کہ 11اگست2020کو ایک توہین آمیز فیس بک پوسٹ کی وجہ سے جو ہنگامہ کھڑا ہوا اس فیس بک پوسٹ کو پھیلانے والے کلیدی ملز م نوین کو ضمانت مل گئی ہے لیکن وہ نوجوان جن کا تشدد سے دور دور تک تعلق نہیں ان کی بڑی تعداد محض اس لئے گرفتار ہو چکی ہے کہ اس وقت وہ یاتو علاقے میں موجود تھے یا علاقے کے موبائل ٹاور میں ان کے فون نمبر درج ہیں۔ ان بے قصور نوجوانوں کے خلاف پولیس نے ایک نہیں ہر ایک نوجوان پر چار سے زائد مقدمے درج کئے ہیں۔بعض نوجوانوں پر20تا 25مقدمے درج کئے ہیں۔ جن نوجوانوں کو عدالت کی طرف سے ضمانت منظور ہوئی ہے ان کے لئے فوری طور پر شورٹی کا نظم کرنے میں دشواری یہ پیش آرہی ہے کہ ہر ایک کیس میں ضمانت کے لئے الگ الگ شورٹی کا بندوبست کرنے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کو رہا کروانے کے لئے شہر کے وکلاء کی طرف سے جدوجہد کی جا رہی ہے خاص وطورپر انیس علی خان نے جدوجہد میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور انہی کی کوششوں سے 99نوجوانوں کی ضمانت منظور ہو سکی ہے۔ اس کے لئے انیس علی خان قابل مبارکباد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت ضمانت منظور ہونے کے بعد شورٹی فراہم کرنا ضروری ہے۔ شورٹی جائیداد کے دستاویزات کی شکل میں ہو سکتی ہے یا سرکاری ملازمین کی طر ف سے ملز م کے حق میں ضمانت کی شکل میں۔ کسی اور شکل میں شورٹی عدالت میں منظور نہیں ہوسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس کے سلسلہ میں ماہرین قانون نے بتایا ہے کہ ایک نوجوان کو ایک کیس میں ضمانت ملی ہے تو اس کے لئے ایک جائیداد کا دستاویز یا دو ملازمین کی شورٹی کافی ہو گی البتہ اگر نوجوانوں پر زیادہ مقدمے درج ہیں تو ان کے لئے ایک ایک کیس کے لئے ضمانت الگ الگ سے مہیا کروانی ہو گی۔ اس مرحلہ میں غیر معمولی پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین کو چاہئے کہ اس ضمن میں آگے بڑھ کر حکومت کے نمائندو ں سے بات کریں کہ جن نوجوانوں پر بڑی تعداد میں مقدمہ درج کئے گئے ہیں ان کو واپس لینے کے لئے قدم اٹھایا جائے۔جن نوجوانوں کو ضمانت مل گئی ہے ان کے خاندان والوں سے عبید اللہ شریف نے گزارش کی ہے کہ وہ شورٹی کا انتظام کریں تاکہ جلد رہائی ہو سکے۔ مزید جانکاری یا تعاون کے لئے وہ ان نمبرو ں پر رابطہ کرسکتے ہیں۔9739094792/ 8618517689/ 9535611877پر رابطہ کرسکتے ہیں۔